ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے نئے موٹر گاری ایکٹ کو مکمل طور پر لاگو کیا

9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے نئے موٹر گاری ایکٹ کو مکمل طور پر لاگو کیا

Sun, 08 Sep 2019 18:02:22    S.O. News Service

 نئی دہلی،8ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)قریب 9 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے نوٹیفکیشن جاری کرکے نظر ثانی موٹر گاڑی ایکٹ کو مکمل طور پر نافذ کر دیا ہے۔ان ریاستوں میں کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، اڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ شامل ہیں۔دوسری ریاست ابھی اس پر عمل کرنے میں اور وقت لے رہی ہیں، تاکہ وہ معلوم کر سکیں کہ کیا قوانین میں کچھ نرمی برتی جا سکتی ہے؟۔ نظر ثانی موٹر گاڑی ایکٹ کے تحت 24 ایسے جرائم طے کئے گئے ہیں، جس میں کورٹ میں جانے کی جگہ موقع پر ہی جرمانہ بھرا جا سکتا ہے لیکن زیادہ تر ریاستوں نے اب تک متعلقہ افسروں کو اس کے لئے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے۔مدھیہ پردیش کے ٹرانسپورٹ کمشنر شیلندر شریواستو نے بتایاکہ ہم اب اسے دیکھنے کے لئے انتظار کر رہے ہیں کہ ہمارے پڑوسی ریاستوں نے اس پر کیا قدم اٹھایا ہے۔ یہاں تک کہ مغربی بنگال بھی ابھی رد عمل کا انتظار کر رہا ہے،وہاں کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ہم قوانین طے کریں گے، لیکن ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس 6 ماہ کا وقت ہے۔ایکٹ میں جرمانے کی زیادہ سے زیادہ رقم لکھی گئی ہے،ریاستوں کے پاس حق ہے کہ وہ اس میں کم از کم کرایہ وصولے۔ بی جے پی حکومت گوا بھی دسمبر تک نئے قوانین کو لاگو کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔گوا حکومت پہلے برسات میں ٹوٹنے والی سڑکوں کی مرمت کرے گی، اس کے بعد اس پر فیصلہ لیا جائے گا۔مہاراشٹر ٹرانسپورٹ وزیر دیواکر راتے نے کہا کہ انہوں نے اسے لے کر قانون اور محکمہ انصاف سے رائے مانگی ہے کہ کیا جرمانے کو کم کیا جا سکتا ہے۔یوپی کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری اروند کمار کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے قوانین کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے عمل کو مکمل کر دیا ہے۔نئے قوانین لاگو کرنے سے پہلے کابینہ کی منظوری لی جائے گی۔ راجستھان ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے نئے قوانین لاگو کرنے کو لے کر کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں لیا ہے۔ 


Share: